کوٹ لکھپت جیل
قصوری قید اسلم
قید خورشید و عمر
قیدی
مری جاں اس خراب آباد میں ہے ہر بشر قیدی
سلاخوں میں ادھر ہے طاہرہ اور اس طرف مظہر
بنا رکھا ہے اک بیداد گر نے گھر
کا گھر قیدی
حمید اختر بھی ہے رحمن بھی ہے اور مغل بھی ہے
مقدر سے ملے ہیں
واہ کیا کیا
دیدہ در قیدی
جہالت پھر رہی
ہے شہر میں آزاد
و آوارہ
رضا کاظم،مبشر راؤ منت
اور ظفر قیدی
علی سا خوب رو فن
کار بھی قید نفس میں ہے
بہت مسرور ہوتے ہیں اسے سب دیکھ کر قیدی
شعیب ہاشمی زنداں میں پہلی
بار آیا ہے
وطن میں رہ چکا ہے مدتوں
اس کا خسر قیدی
میں آیا ہوں تو اپنے ساتھ نوحہ گر بھی لایا ہوں
مری صورت ہے اس زنداں میں پبلشر قیدی
ملک ہیرا رؤف احسان
مہدی چودھری اصغر
یہ ساتھی ہوں تو رہ سکتا ہے انساں عمر بھر قیدی
یہ ابھریں گے یہ چمکیں گے یہ ظلمت کو مٹا دیں گے
زیادہ دیر رہ سکتے نہیں شمس و قمر قیدی
ہمارے ساتھ عبداللہ بھی ہیں اور ایک
جج بھی
رہے ہیں جن کے کیا کیا اہل دل اہل نظر قیدی
ولی یعقوب استقلال تاج
الدین اور عابد
یہ کر لیتے ہیں دل بس میں بڑے ہیں جادو گر قیدی
بہت کمیاب ہیں فیاض
سے انسان دنیا
میں
ثنا خواں ان کا زنداں میں ہے میری جان ہر قیدی
کہاں ملتے ہیں صبح و شام زندانوں میں اے ہمدم
رشید و صفدر و مشتاق ایسے
با خبر قیدی
یہ سب رونق ہے پاہٹ ہی کے دم سے کوٹ لکھپت میں
نہ ہو یہ تو نکل جائیں
سلاخیں توڑ کر قیدی
لگا ہے کوٹ لکھپت
جیل میں میلہ
چراغاں کا
کہاں ہے قید تنہائی ادھر قیدی ادھر قیدی
وہ آیا لے کے ہونٹوں پہ
ہنسی خان اے حمید آیا
وہ آیا میرے بچھڑے دیس کا
نور
نظر قیدی
ضرورت ڈاکٹر بنگش کی تھی لو وہ
بھی آیا پہنچا
کرے گا دیکھ بھال اب قیدیوں کی ڈاکٹر قیدی
بڑا انساں ہے اپنے
وقت کا یہ بھی قلندر ہے
قفس میں پھر رہا ہے
جو منڈائے اپنا سر قیدی
کنیز فاطمہ ،محمود،
منٹو اعتزاز احسن
یہ قیدی ہیں کہ ہے اک علم ودانش کا نگر قیدی
بشیر و حامد و محمود ہیں بکھرے ہوئے موتی
کوئی قیدی کدھر ہے اور ہے کوئی کدھر قیدی
یہ قاسم اور قاضی حئی
تو قیدی پرانے
تھے
بنے ہیں خواجہ خیر الدین ڈھاکہ چھوڑ کر قیدی
ملک قاسم بھی اصغر خان بھی ہیں ملک کے دشمن
میاں ہم کیا ہیں
خیر الدین بھی ہیں اہل شر قیدی
نہ کچھ ارشاد فرمایا نہ کوئی
راہ دکھلائی
ادھر ٹوپی جمی سر پر ہوئے بس ہم ادھر قیدی
میاں معراج و اصغر خاں کا بس اتنا فسانہ ہے
پڑا ہے کوئی زنداں میں تو کوئی اپنے گھر قیدی
اٹھا لے لاکھ دیواریں مقابل مہر تاباں کے
ستم گر ہو بھی سکتی ہے کبھی شب کی سحر قیدی
یہ قیصر مصطفی اسرار
یہ انور رشید
اپنے
سلاخوں میں پڑے ہیں دیکھ کیا کیا شیر نر قیدی
میں دیکھوں تو کسے دیکھوں میں روؤں تو کسے روؤں
مرے قلب و نظر قیدی مرے جان و جگر قیدی
کسی کی کچھ خبر ملتی نہیں ہے اس زمانے میں
نجانے اور کتنے ہیں ہمارے ہم سفر قیدی
نہیں پرساں کوئی ان کا پڑے ہیں جیل خانوں میں
ہوا کرتے تھے ہم سے لوگ جن کے حکم پر قیدی
نہ یہ زنداں رہیں باقی نہ یہ ظلم و ستم جالب
اکٹھے ہو کے دھاوا بول دیں سارے اگر قیدی
Comments
Post a Comment